اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے پاکستانی اراکین اور اس ملک کے خارجہ تعلقات کمیشن کے نمائندوں نے اسلام آباد کی خارجہ پالیسی میں اسلامی جمہوریہ ایران کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے دوطرفہ اور علاقائی تعاون کی ترقی کی حمایت کی اور مختلف شعبوں میں تعامل کو بڑھانے پر ایرانی تجربات اور صلاحیتوں کے استعمال کا مطالبہ کیا۔
ارنا نمائندے کے مطابق،ایران پاکستان فرینڈشپ گروپ کے اراکین نے آج بروز پیر کو پاکستان کی قومی اسمبلی کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے اراکین سے قومی اسمبلی میں ملاقات کی جس میں ایران پاکستان فرینڈشپ گروپ کے چیئرمین "احمد امیر آبادی فراہانی" اور ان کے پاکستانی ہم منصب "سید نوید قمر" بھی موجود تھے۔
منعقده اس تقریب میں فوڈ سیکورٹی کے وزیر اور ایران پاکستان کے فرینڈشپ گروپ کے اعلی رکن "سید فخر امام" نے پاکستانی حکومت اور وزیر اعظم کیجانب سے ایرانی پارلیمانی وفد کے دورہ پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس کو دونوں ملکوں کے پارلیمانوں کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون بڑھانے کے پختہ عزم کی علامت قرار دے دیا۔
انہوں نے زراعت کے شعبے میں ایران کی بے پناہ صلاحیتوں پر تبصرہ کیا اور ایران سے پیٹرو کیمیکل مصنوعات، موسم گرما کی فصلیں، پستہ، کھجور اور زعفران کی درآمد کا ذکر کرتے ہوئے کہا اگر ہم ایرانی زعفران، پستے اور کھجور کی تین مشہور اور عالمی مصنوعات کے بیج پاکستان میں درآمد کر سکیں تو ہمارے پاس زراعت کے شعبے کی ایک اچھی مارکیٹ ہوگی۔
فخر امام نے ایران میں پانی کے موثر انتظام کا حوالہ دیتے ہوئے اس شعبے ایران کے تجربات کے استعمال پر زور دیا۔
در این اثنا پاکستان فوڈ سیکورٹی کے وزیر، اس ملک کے چین کے ساتھ گہرے اور اسٹریٹجک تعاون سمیت تہران-بیجنگ کے مضبوط تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے خطے میں ان تینوں ممالک کے مشترکہ تعاون میں اضافے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سہ فریقی تعاون کئی شعبوں بشمول توانائی میں فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔
اس موقع پر پاکستان کی قومی اسمبلی میں خارجہ امور کمیشن کے چیئرمین "ملک احسان" نے اسلام آباد کی خارجہ پالیسی میں اسلامی جمہوریہ ایران کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ہم مشترکہ تجارت کو مستحکم کرنے کے لیے دوطرفہ میکنزم کے باقاعدہ قیام اور دوطرفہ معاہدوں کے موثر نفاذ خاص طور پر آزاد تجارتی معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی بڑی اہمیت دیتے ہیں۔
اسلام آباد کا تہران کے تجربات کا استعمال تعاون بڑھانے میں موثر ہوگا
انہوں نے کہا کہ تہران اور اسلام آباد بہت سے عالمی اور علاقائی چیلنجوں جن میں اسلامو فوبیا، دہشتگردی، علاقائی امن و استحکام، فلسطین اور کشمیر شامل ہیں، پر قابو پانے میں ایک دوسرے کیساتھ کھڑے رہے ہیں اور اس حوالے سے مزید ہم آہنگی اور تعاون کی ضرورت ہے۔
ملک احسان نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اپنی سرزمین کو اپنے پڑوسیوں بشمول ایران کیخلاف استمعال کرنے کی اجازت نہیں دے گا؛ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے اور 80 ہزار جانی نقصان اٹھا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کیساتھ پاکستان کی مشترکہ سرحدوں کے باڑ لگانے کے عمل کا 60 فیصد حصہ مکمل ہوچکا ہے اور پاکستان، ایران کیساتھ اپنی سرحدوں کو امن اور دوستی کی سرحد سمجھتا ہے اور ایران کی سلامتی کو اپنی سلامتی سمجھتا ہے۔
دراین اثنا قومی اسمبلی میں ایران پاکستان پارلیمانی دوستی گروپ کے سربراہ "سید نوید قمر" نے بھی ایران چین پاکستان دوستی گروپوں کا مشترکہ اجلاس کے انعقاد کیلئے ایرانی فریق کی تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس تجویز کو پاکستان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے ساتھ اٹھائیں گے اور مستقبل قریب میں اس کا انعقاد کریں گے۔
انہوں نے مستقبل قریب میں دونوں ممالک کے پارلیمانی دوستی گروپوں کے مشترکہ دورہ ایران اور پاکستان کی سرکاری سرحدوں کی بھی حمایت کی۔
پاکستانی عہدیدار نے توانائی کے شعبے میں ایران کے ساتھ تعاون کی اہمیت بشمول ایران سے صوبہ بلوچستان کے کچھ حصوں کو بجلی کی فراہمی پر زور دیا کہا کہ گوادر بندرگاہ کے مکینوں کی توانائی، ایران سے بجلی درآمد کرکے فراہم کی جاتی ہے اور ہمیں امید ہے کہ تعاون کا یہ عمل جاری رہے گا۔